خواجہ میر درد کی پیدائش 1721ء کو ہوئی آپ کے والد خواجہ محمد ناصر عندلیب تھے اور شاہ گلشن سے نسبت ارادت رکھتے تھے ان کا خاندان دہلی میں پیری مریدی کے سلسلے میں بہت ممتاز تھا، علوم متداولہ سے آگاہ تھے موسیقی میں خاص نظر رکھتے تھے، نثر فارسی میں تصوف کے معاملات پر کئی رسالے لکھے ان کے کلام میں غزل اور رباعیات اور ترجیع بند کے سوا اور کچھ نہیں ہے، دیوان مختصر لیکن انتخاب ہے، دہلی کی بربادی پر سب اہل فن یہاں سے دوسری جگہوں پر چلے گئے لیکن یہ کہیں نہ گئے اور نہ کسی کی نوکری کی کیونکہ امیر غریب سب ان کی خدمت کرنا عین سعادت سمجھتے تھے، زبان ان کی وہی میر و مرزا کی ہے، معاملات تصوف میں اپنے عہد میں ان سے بڑھ کر اردو میں کوئی شاعر نہیں گزرا، ان کی چھوٹی بحروں کی غزلیں میرؔ کی غزلوں سے کسی طرح کم نہیں، 7 جنوری 1785ء کو وفات پائی۔ آپ کی تصانیف یہ ہیں: اسرارالصلوٰۃ، رسالۂ غنا، واردات درد اس کی شرح علم الکتاب فارسی اور ایک ریختہ کا دیوان۔